6 نومبر 2010 - 20:30

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان جب تک دہشت گرد گروپوں سے رابطے ختم نہیں کرتے امن عمل کیلئے ہونے والی بات چیت میں شریک نہیں ہوں گے۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیر خارجہ سعود الفیصل نے کہا کہ افغان صدر حامد کرزئی کی جانب سے طالبان سے ساتھ مذاکرات میں بات چیت کیلئے سعودی عرب کو کردار ادا کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔انہوں نے کہاکہ سعودی عرب افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات میں اس تک شریک نہیں ہوگا جب تک طالبان دہشت گرد گروپوں سے راوبط ختم نہیں کرتے۔سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جب تک طالبان دہشت گردوں کو پناہ فراہم کرتے رہیں گے سعودی عرب امن کے عمل میں شریک نہیں ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ طالبان کا دہشت گردوں کے ساتھ روابط کی وجہ سے مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک سوال:کیا سعودی وزیر خارجہ کے اس ہمدردانہ مشورے سے ثابت نہیں ہوتا کہ سعودی حکمرانوں کے طالبان کے ساتھ قریبی روابط ہیں؟.........

/110